اسی تناظر میں فرانسیسی  مغربی ادیبوں جن کا فن برائے فن سے سابقہ رہا

اسی تناظر میں فرانسیسی  مغربی ادیبوں جن کا فن برائے فن سے سابقہ رہا

مثلاً بودیلیئر، ورلین، راں بو، مالا رمے، والیری اور ژید وغیرہ کے فن پاروں سے اقتباس دے دے کر ان میں زندگی کی حقیقتوں کے اظہار پر کئی ایک نمونے پیش کرتے ہوئے لکھا کہ ان کی تخلیقات تو محض حسن کے پیچھے سرگرداں پھرنے والی ہوتیں لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے بلکہ ان کا تجسس انھیں اور میدانوں کا راہی بناتا ہوا نظر آتا ہے۔ جمالیات کے پرستار بننے کے بعد ان کی زندگی “جوئے کم آب”بن کے رہ جانی چاہیے تھے لیکن ان کی تخلیقات میں تو سمندر کا سا بپھراؤ دکھائی دیتا ہے۔ یوں ان کی تخلیقات خیر اور صداقت سے کنارہ کش ہوتیں اور ان لوگوں میں کسی اخلاقی کشمکش کے آثار نہ ملتے۔ صرف جمالیاتی تسکین کی دھن میں یہ زندگی سے منہ موڑ کے موت کی طرف جانے والے ہوتے لیکن ایسا قطعی نہیں ہے۔

مذکورہ بالا ادیبوں (فن برائے فن کے حامیوں) کے ہاں شدید رومانی درد و کرب کا اظہار ضرور ملتا ہے لیکن اس عنصر کی موجودگی کو عسکری صاحب ایک اور توجیہہ سے پیش کرتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ محض اس عنصر کی موجودگی میں ان لوگوں کی تخلیقی کاوشوں کو صرف اور محض لذت اندوزی یا جمالیاتی لطف تک محدود کر دیتا مناسب ہیں۔ یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ خود اذیتی ان کے خمیر میں پڑی ہو اور نظمین لکھ لکھ کر وہ یہی “طلب”پوری کرتے ہوں۔ اگرچہ اس بات سے انکار تو نہیں کیا جا سکتا مگر نفسیات سے اس بات کی توجیہہ نہیں ہو سکتی کہ ان کی خود اذیتی یہی شکل کیوں اختیار کرتی ہے۔ یہ لوگ بڑے بڑے مابعد الطبعیاتی سوالات پوچھتے ہیں یہ انسان، کائنات اور کائنات میں انسان کا مقام پھر کائنات میں شرکا وجود کیوں ہے؟ لیکن جب ان سوالوں کا جواب وہ نہیں پا سکتے تو ان کے اندر غم و غصہ اور کرب پیدا ہوتا ہے۔

عسکری صاحب ان ادیبوں کی تخلیقات کا جائزہ لیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ یقیناً ان لوگوں کی کاوشوں کا مقصد جمالیاتی تسکین سے کچھ زیادہ تھا۔ جب ایسا تھا تو فن برائے فن کا دم بھرنے کی کیا ضرورت تھی؟ اگر ان کی تخلیقات میں اخلاقی مسائل کائنات گیر سوالات اور ایک جاں گداز ابدی لگن ملتی رہے تو اپنے نظریات میں فن کو محض جمالیاتی حسن کے مظاہر تک محدود کر دینے میں کیا مصلحت تھی؟ یہ بجا طور پر ان کے بارے میں مشہور ہے کہ ان کے لیے زندگی میں سب سے بڑی چیز فن ہے اور انھیں یہ گوارا بھی نہیں کہ ان کے فن پر مذہبی، اخلاقی، سیاسی معیار عائد کیے جائیں۔ لیکن یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی حد تک اخلاقی ترجیحات کے بغیر ادب پارہ کی تخلیق ممکن نہیں ہے۔ اب ان ادیبوں پر تو دہری ذمہ داری آن پڑی کہ جب تمام مروجہ معیاروں کو ترک کرتے چلے گئے تو نئی اقدار کی تخلیق بھی ادب پاروں کی تخلیق کے ساتھ لازم ٹھہری۔ ان کے لیے بہت آسان راستہ تو یہی تھا کہ جس قسم کی اقدار میسر تھیں انھیں کی بنیاد پر اپنا جمالیاتی نقش بناتے اور اپنی تسکین پا لیتے۔ مگر ان جمال پرستوں کو غیر جمالیاتی چیزوں کو رد کرنے اور اپنے فن کو مروجہ تصورات سے آزاد کرانے کی پریشانی آخر کیوں ہوئی؟۔

عسکری صاحب کا خیال ہے کہ جب انیسویں صدی کے درمیان میں بہت سے پڑھے لکھے لوگوں کا اعتقاد مذہب سے اٹھنے لگا اور جو زیادہ حساس لوگ تھے وہ ہر چیز کو شبہے کو نظر سے دیکھنے لگا لہٰذا ادب میں عالم گیر تشکک کے عمل کا مطالعہ نشاط ثانیہ کے دور سے کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ مذہب کو ماننا یا نہ ماننا انفرادی چیز ضرور ہے لیکن ایک بات مانے بغیر شاید ہم آگے نہ نکل سکیں کہ عام آدمی کو مذہب دو چار بڑے اذیت ناک مسائل سے محفوظ رکھتا ہے مثلاً ۔

کائنات میں شرکا وجود

انفرادی بقا
عالم موجودات میں انسان کی حیثیت

یہ تینوں اہم سوالات ہیں جن کا حل ڈھونڈنے کو کوشش میں انسان ازل سے سرگرداں ہے۔ مذہب ان کے جوابات دو اور دو چار کی طرح تو نہیں دے سکتا لیکن دو چار باتوں کو اگر مگر کہے بغیر ایمان لانا پڑتا ہے۔ اور ان بنیادی مفروضات کو مان لینے کے بعد ایک ایسا منطقی نظام مرتب ہو جاتا ہے جو ایک عام آدمی کے روحانی مسائل کو تشفی بخش طریقے سے حل کر دیتا ہے۔ لیکن عسکری کا ماننا ہے کہ اگر ان بنیادی مفروضات کو چھوڑ دیا جائے تو یہ مسائل بہت خوفناک شکل میں سامنے آ جاتے ہیں کہ جنھیں انسانی دماغ ابھی تک حل کرنے میں ناکامیا ب رہا۔

اب دوسری طرف سائنس ہے تو اس نے“حد”کو کائنات سے ہی بے دخل کر دیا تھا مگر وہ بھی ان سوالوں کے جواب دینے سے قاصر ہے یوں فن کاروں کو سائنس پر بھی اعتماد نہ رہا۔ البتہ انیسویں صدی کا ایک نیا دیوتا تھا “ترقی”لیکن ترقی کے معنی صرف چلتے رہنے کے ہیں کہ منزل ہی معلوم نہ ہو تو پھر جیسا راں بو نے کہا تھا، یہ بھی ممکن ہے کہ دنیا گھوم پھر کے وہیں آجائے جہاں سے چلی تھی۔

1 thought on “اسی تناظر میں فرانسیسی  مغربی ادیبوں جن کا فن برائے فن سے سابقہ رہا”

  1. Hey, It’s me Mahmud Ghazni. Recently your website caught my attention while searching for similar domain names. After entering the website, It seems that your website is not yet complete. Also I noticed that your website does not have proper On-Page SEO setup yet. In fact, the SEO issue is the most important issue for every website. Because if you don’t do proper SEO, no matter how beautiful and attractive the website is, visitors will not come to it. And without visitors, the website has no value. So I thought I should try to contact you by leaving a comment on your website. Because as a Freelancer, I provide SEO and WordPress related services like WordPress Design & Development, Theme Customization, Speed Optimization, Website Migration, On-Page SEO Setup, Malware Removal etc services to my clients. I can offer you these services at competitive price range.
    .
    The biggest advantage of hiring me is that you have to pay much less than hiring a Freelancer from marketplace or Agency. Because in the marketplace you have to pay extra fee for the service But you don’t have to pay any extra fee for hiring me, It means you save a lot of money here. For the past 3 years I have been providing services to various IT company in our country. Due to the previous Covid pandemic situation and the impact of the lockdown, many companies have closed down. That’s why I’m currently offering Freelance services to International clients. Since I am a new Freelancer in the online marketplace, That’s why I’m trying to reach clients in various ways.
    .
    So let me know what kind of service you need. I will try my best to make you happy through the service. You can contact me by Email or Whatsapp if you want to know more details or call a meeting with me.
    .
    Best Regards,
    Mahmud Ghazni
    WhatsApp: +8801322311024
    Email: [email protected]

Leave a Reply to Mahmud Ghazni Cancel Reply

Your email address will not be published.