عسکری صاحب اسے مختصراً یوں بیان کرتے ہیں

عسکری صاحب اسے مختصراً یوں بیان کرتے ہیں 

فن کار کے لیے مذہب، سائنس، ملک و قوم، خاندان، اخلاقی تصورات وغیرہ کوئی پناہ گاہ باقی نہ رہی در حقیقت فن کار کی دنیا میں کوئی مرکزی تصور نہیں رہا تھا جس سے یہ سب چیزیں بندھی رہ سکتیں مگر ان تصورات کی گرفت عام لوگوں پر باقی تھی جبھی تو مختلف لوگ مختلف طریقوں سے اس عقیدت کو اپنے اپنے فائدے کے لیے استعمال کر رہے تھے جس پر فن کار کو چوکنا رہنے کی ضرورت تھی، چنانچہ فن کار نے جمالیاتی تسکین حاصل اور فراہم کرنے کے علاوہ ایک اور کام بھی کیا کہ ہر مروجہ تصور سے انکار، اس دور میں یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ فن کار کی یہ کوشش نظر آرہی ہے کہ وہ دھوکا نہیں کھانا چاہتا اپنے فن میں جھوٹ کی آمیزش نہیں ہونے دے پا رہا۔ اب اس کی آخری پناہ گاہ یہی بچی ہے کہ اعصابی تجربہ اور اس کی جمالیاتی حس، جس پر وہ یقین کر سکتا ہے گو کہ تھوڑے دنوں بعد اسے اس پر بھی شک ہونے لگا اس ساری بحث کو عسکری صاحب کے قلم کی زبان سے سمجھنے کی سعی کر لیتے ہیں

“فن کار کی دنیا میں اس کی جمالیاتی

حس یا اعصابی تجربہ وہ آخری چیز رہ گئی تھی جس پر اسے یقین آ سکے۔ گوتھوڑے ہی دن بعد اسے اس چیز پر بھی شک ہونے لگا اپنے آپ سے خلوص برتنے اور آلائشوں سے پاک رہنے کی لگن تھی جس نے فن برائے فن کے عقیدے کو جنم دیا۔ فن کار زندگی سے یا اخلاقی مسائل سے بھاگ نہیں رہا تھا البتہ اسے دوسروں کے پیش کردہ حل قبول نہیں تھے۔ فن برائے فن کا نظریہ پناہ گاہ نہیں تھا، بلکہ میدان کارزار فنی حس کے علاوہ تمام اقدار کو رد کرکے فن کر زبردستی اوکھلی میں اپنا سر دے رہا تھا۔ دور جدید سے پہلے فن کار آسانی سے کہہ سکتے تھے کہ ہمارے فن کا مقصد منفعت بھی ہے اور لطف بھی کیوں کہ ان کے ذہن میں منفعت کا واضح تصور موجود تھا۔ مگر نئے فن کار کے پاس نفع نقصان کا کوئی بنا بنایا معیار نہیں تھا اسے تو خود تجربے کر کے پتا چلانا تھا کہ نفع کیا ہوتا ہے اور نقصان کیا۔۔۔۔ فن برائے فن ہر قسم کی آسانیوں، ترغیبوں اور مفادوں سے محفوظ رہ کر انسانی زندگی کی بنیادی حقیقتوں کو ڈھونڈنے کی خواہش کا نام ہے۔

عسکری صاحب سمجھتے ہیں کہ

جب راہ بو اخلاقیات کو دماغ کی کمزوری کہتا ہے تو اس کا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ جو لوگ حالات کا لحاط کیے بغیر ہر مروجہ اخلاقی قانون کو بے چون و چرا تسلیم کر لیتے ہیں، وہ سوچنے کی طاقت نہیں رکھتے اسی طرح آندرے ژید کا بدنام زمانہ جملہ کہ ۔۔۔۔ “نیک جذبات سے صرف بُرا ادب پیدا ہو سکتا ہے۔” کی وضاحت کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ژید فن کار کو نیکی سے بالکل بے نیاز ہونے کا مشورہ نہیں دینا چاہتا بلکہ اسے کہنا یہ ہے کہ معاشرے کا اندرونی توازن بگڑ چکا ہو، مگر نیک و بد کا تصور وہی چلا آرہا ہو جو مکمل ہم آہنگی اور توازن کے وقت تھا تو ایسا تصور فن کار کو صحیح تخلیق میں مدد نہیں دے سکتا کیوں کہ اس کا کام نئی حقیقتوں کی دریافت بھی ہے اور اپنے لیے نیک و بد بھی خود طے کرنے ہیں۔ جب ایسا ہو تو بعض اوقات تخلیق کار کو مروجہ معیاروں کو الٹ پلٹ کر کے بھی دیکھنا ہو گا، نیک کو بد اور بد کو نیک سمجھ کر تجربہ کرنا ہو گا کہ حقیقت کا درست سراغ مل سکے۔ اور یہی وجہ ہے کہ یہ فن کار ہر قسم کے مروجہ تصورات سے اپنے فن کو آزاد رکھنے پر مصر رہے۔

عسکری صاحب فن برائے فن کے حامی

تخلیق کاروں کی جمال پرستی کو محض جمال پرستی سے کچھ اوپر کی چیز دیکھتے اور دیکھانے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ فطرت اور ما بعد الفطرت کے مشاہدے کے لیے نئی نظر پیدا کرنے کی کوشش کا ایک لازمی حصہ یہ بھی ہے کہ نیا فن پیدا کیا جائے۔ وہ بارہا یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ جمال پرستی کے عام طور پر جو معنی لیے جاتے ہیں وہ ان کی تخلیق بالکل بے کار ہو جاتے ہیں ان لوگوں کی کوششوں کا ماحصل یہ ہوتا ہے کہ حقیقت کو محض بیان نہ کیا جائے، بلکہ ایک نئی حقیقت لفظوں کی مدد سے تخلیق کی جائے۔ بقول سال پول رو ان لوگوں کے پیش نظر دوبارہ پیدائش نہیں تھی۔ بلکہ محض ایک طرح دیکھیے تو یہ عنصر شاعری میں ہمیشہ موجود رہا ہے۔ مگر ان لوگوں نے شعوری طور پر کوشش کی یہ عنصر ہمارے ہاں زیادہ سے زیادہ نظر آئے۔ یہ لوگ گویا لفظ کو آزاد کر دینے کی دھن میں لگے ہوئے تھے۔ سال پول رو نے اس عمل کی وضاحت کچھ یوں کی ہے۔ 21؎ “لفظوں میں پہلی مرتبہ پر لگے ہوں۔ ان پروں سے لفظ اس قابل ہو جائیں گے کہ حقیقت سے مابعد الطبعیات میں، واہمہ سے اشیاء کی سرزمیں پھلانگ جائیں۔” سال پول رو کے اس جملے سے بہت واضح ہے کہ یہ فن کار عمل زندگی سے فرار چاہتے ہیں نہ ہی اسے خالی جمالیاتی تسکین کا چسکا سمجھا جا سکتا ہے، بلکہ فطرت اور حقیقت کے تصور کو بنیادی طور سے بدلنے کی ہمہ گیر کوشش کا ایک حصہ ہے اسی عمل کو راں بو نے الفاظ کی کیمیا گری کہا ہے یا “شاعرانہ لفظ جس سے سارے حواس فائدہ اٹھا سکیں” اپنی تخلیقی کاوشوں کے بارے میں کہا ہے کہ :
“میں خاموشیوں کو، راتوں کو، الفاظ کی گرفت میں لا رہا تھا

اس کی مزید وضاحت کے لیے عسکری صاحب ژاں پول سارتر کے الفاظ کی تفسیر سامنے رکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ

سارتر کے خیال میں شاعر لفظوں کو استعمال ہی نہیں کرتا۔ جب کہ نثر نگار لفظوں کے اندر دال ہو کر ان کا اچھی طرح معائنہ کر سکتا ہے۔ یہ بات شاعر کے بس کی نہیں۔ وہ لفظوں کو صرف باہر سے دیکھتا ہے۔ نثر نگار کی طرح وہ کسی چیز کو بیان نہیں کر سکتا۔ یہ بات شاعر کے بس کی نہیں۔ وہ لفظوں کو صرف باہر سے دیکھتا ہے۔ نثر نگار کی طرح وہ کسی چیز کو بیان نہیں کر سکتا۔ اس کے بجائے وہ اس چیز کے مقابلے میں، لفظوں کی مدد سے ایک نئی چیز بنا کے رکھ دیتا ہے۔ وہ الفاظ کی شکل میں چیزوں کا بدل پیش کرتا ہے۔ چنانچہ اس کے شعر محض بیانیہ جملے نہیں ہوتے بلکہ چیزیں ہوتے ہیں اور شاعر حقیقی معنوں میں خالق ہوتاہے سارتر نے اس کی مثال کے لیے راں بو کی دو لائنیں پیش کی ہیں:
“کیسے کیسے موسم ہیں! کیسے کیسے قلعے ہیں!
وہ کون سی روح ہے جو بے گناہ ہو؟”

Leave a Comment

Your email address will not be published.